1,769

آخری پیغام

صبح صبح میرے فون پر ایک نامعلوم نمبر سے کال آ رہی تھی۔ میں اس کال کو نظر انداز کرکے اخبار پڑھنے میں مگن رہا، پھر اچانک فون کی اسکرین پر ایک میسج رونما ہوا۔ ’’میں ظفر نائیک ہوں‘‘ یہ میرے لئے بریکنگ نیوز تھی کیونکہ خواجہ ظفر نائیک کئی دنوں سے رابطے میں نہیں تھے اور اُن کے پرانے نمبر خاموش تھے۔

میں نے فوراً کال بیک کی تو خواجہ صاحب نے پہلی ہی گھنٹی پر فون اُٹھا کر کہا تم بند کرو میں کال کروں گا، تمہیں قطر کے نمبر پر کال مہنگی پڑے گی۔

میں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا خواجہ صاحب کیسی باتیں کر رہے ہیں، پہلے یہ بتایئے کہ آپ کے پرانے نمبر خاموش کیوں ہیں؟ خواجہ صاحب نے بہت کمزور اور بیمار آواز میں کہا کہ تین چار مہینے بہت تکلیف اور پریشانی میں گزرے، وہ تم نے ایک کالم میں جس یتیم خانے کا ذکر کیا تھا وہ سری نگر میں مسلسل کرفیو اور پابندیوں کے باعث بند ہو گیا۔

بہت کوشش کی کہ یہ چھوٹا سا آشیانہ کچھ معصوم یتیموں کے سر پر سایہ بنا رہے لیکن اس یتیم خانے کو چلانے والا نگران گرفتار ہو گیا کیونکہ وہ کرفیو میں بچوں کیلئے پھل، سبزیاں ڈھونڈ رہا تھا پھر پولیس ان بچوں کو بھی اُٹھا کر لے گئی۔ جب مجھے پتا چلا تو میں بیمار پڑ گیا۔

خواجہ صاحب نے درد ناک لہجے میں کہا میرے پندرہ بچے لاپتا ہیں، اپنے شہر سے ہزاروں میل دور پریشان بیٹھا تھا، اس پریشانی میں اپنے فون سے سری نگر میں کچھ جان پہچان والے سرکاری لوگوں سے مدد مانگی تو میرے رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے شروع ہو گئے لہٰذا میں دبئی سے دوحا آ گیا، نمبر بدل گئے، پھر مزید بیمار پڑ گیا۔

اس دوران تم سے ایک دفعہ رابطہ ہوا لیکن وہ نمبر اب میرے بیٹے کے پاس ہے، نیا نمبر تمہیں نہیں بھیج سکا۔ خواجہ صاحب بڑی مشکل سے الفاظ ادا کر رہے تھے۔ کہنے لگے طبیعت سخت خراب ہے۔ بیٹا اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ پاکستانی اخبارات کے آن لائن ایڈیشن مجھے پڑھا دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں